بدھ 11 فروری 2026 - 14:33
ایرانی قیادت اور مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا: مولانا کلب جواد نقوی

حوزہ/ یوپی پریس کلب میں ’امن و آشتی کی حمایت، ظلم و ناانصافی کی مخالفت ‘ کے بینر پر ’امن و انصاف تحریک ‘ کے زیر اہتمام پریس کانفرنس کا انعقاد

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ ۱۱ فروری : ’امن و انصاف تحریک ‘ کے زیر اہتمام آج اترپردیش پریس کلب لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس بعنوان ’ امن و آشتی کی حمایت ،ظلم و ناانصافی کی مخالفت ‘ منعقد ہوئی جس میں مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی ،ادارہ تنظیم المکاتب کے سکریٹری مولانا صفی حیدر زیدی اور معروف عالم مولانا جہاں گیر عالم قاسمی سمیت متعدد مذہبی رہنمائوں نے شرکت کی اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بدامنی اور انصاف کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔خاص طورپر امریکی آمریت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ۔

ایرانی قیادت اور مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا: مولانا کلب جواد نقوی

ابتدا میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صفی حیدر زیدی نے کہا کہ ہم آج اس مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں کہ امن وآشتی کی حمایت اور عالمی سطح پر پر جاری ظلم و ناانصافی کی مخالفت کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ چونکہ ہمارا ملک ہندوستان ہمیشہ امن کا حامی اور جنگ کا مخالف رہاہے اس لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ اپنے ملک کے باشندوں کےساتھ مل کر امن اور اتحاد کا پیغام عام کیاجائے ۔ہم اس راہ میں مسلسل کوششیں کررہے ہیں کہ سبھی مذاہب کے ماننے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر دنیا میں پھیلی ہوئی بدامنی اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کریں ۔مولانانے کہاکہ ہمارے ملک میں انصاف اور امن کے لئے آواز اٹھانے والے کم نہیں ہیں ،اس لئے ہم سب کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انصاف اور امن کبھی جارحیت سے قائم نہیں ہوسکتا۔آج استعماری طاقتیں طاقت کےنشے میں دنیا کا امن برباد کرنے پر تلی ہیں ۔خاص طورپر جس طرح ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں وہ آمریت کی کھلی دلیل ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس موقع پر ’قومی امن مہم ‘ کا اعلان کرتے ہیں جس کے ذریعہ ہم قومی سطح پر دستخطی مہم ،احتجاجات ،کانفرنسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس جارحانہ طرز عمل کے خلاف منظم اور مسلسل آواز بلندکریں گے ۔یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے ۔اگر آج ایک ملک کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ہم ایران کے عوام اور اس کی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ہر قسم کی دھمکی آمیز سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ دنیا کی موجودہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے ۔عالمی طاقتیں دنیا میں بدامنی اور جنگ کا فروغ چاہتی ہیں جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پہلے بھی کچھ طاقتوں نے دنیا پر قبضہ کرکے اپنی کالونی قائم کرلی تھی ۔انہوں نے کمزور ملکوں پر قبضہ کرکے ان کے قدرتی ذخائر اور معدنیات کو اپنے کنٹرول میں لے لیاتھا،آج بھی یہی کوشش ہورہی ہےکہ کمزور ملکوں پر قبضہ کرکے ان کے قدرتی ذخائر اور معدنیات کو اپنے کنٹرول میں لے لیا جائے ۔ان طاقتوں نے الگ الگ بہانوں سے افغانستان ،عراق ،شام اور لیبیا کو تباہ کردیااور اب ان کی ناپاک نظریں ایران کی طرف اٹھ رہی ہیں ۔مولانا نے کہا کہ جس طرح وینزویلا کے صدر کو امریکہ نے اغوا کیا اس کی عالمی سطح پر مخالفت ہونی چاہیے تھی مگر افسوس دنیا خاموش تماشائی بنی رہی ۔وینزویلا پر قبضے کا اصل مقصد تیل کے ذخائر کو اپنے استعمال میں لیناتھا۔اس وقت دنیا میں تیل پر قبضے کی جنگ ہے جس میں امریکہ پیش پیش ہے ۔

مولانا نے کہاکہ امریکی صدر جس طرح ایک خودمختاراور جمہوری ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہاہے اس کی مذمت ہونی چاہیے ۔امریکی صدر نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کو اغواکرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں ،جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔مولانانے کہاکہ ہم ہرگز یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنایاجائے یا ہمارے مقدس مذہبی مقامات پر حملے کئے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر عراق یا ایران میں ہماری مذہبی قیادت اور مقدس مقامات پر حملے کئے گئے تو ہم ہندوستان میں کسی بھی مقدس مذہبی مقام پر کسی امریکی اور اسرائیلی کو نہیں آنے دیں گے ،یہ بات ہم اپنی حکومت سے بھی کہناچاہتے ہیں ۔

ایرانی قیادت اور مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا: مولانا کلب جواد نقوی

مولانا نے قومی میڈیا کے رویے کی مذمت کی اور کہاکہ میڈیا کی ذمہ داری سچائی کی حمایت ہے مگر میڈیا اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کی آمریت کا ساتھ دے رہاہے ۔امریکہ اور اسرائیل جس کو آتنک وادی کہتے ہیں میڈیا بھی اسی کو آتنک وادی کہنا شروع کردیتا ہے ۔یہ رویہ ذہنی اور فکری غلامی کی نشاند ہی کرتاہے ۔ مولانا نے کہا کہ جو ملک پوری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں ان کی مذمت کے بجائے میڈیا کبھی آیت اللہ خامنہ ای کی اہانت کرتا ہے جو ناقابل برداشت ہے اور کبھی سید حسن نصراللہ اور قاسم سلیمانی کو دہشت گرد کہتا ہے ۔مولانا نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل نے سینکڑوں صحافیوں کو قتل کردیا مگر میڈیا مذمت سے گریز کرتا ہے ۔اسرائیل فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہے اور مسلسل ان کی نسل کشی کر رہا ہے مگر فلسطینیوں کے حق کی بات کرنے کے بجائے اسرائیلیوں کی مظلومیت کا مرثیہ پڑھا جارہا ہے ۔اگر میڈیا نے اپنے رویے میں تبدیلی نہیں کی تو ہم احتجاج کریں گے ۔

مولانا نے سلامتی کونسل میں ایران کے حق میں ووٹ کرنے پر ہندوستانی سرکار کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت کو فلسطین اور ایران کے حق میں اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہنا چاہیے ،یہی ہمارا مطالبہ ہے۔ مولانا نے پاکستان کے پایۂ تخت اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی بھی مذمت کی اور کہاکہ پاکستان میں شیعوں کی نسل کشی کی جارہی ہے مگر دنیا خاموش ہے ۔خاص طور پر ہمارے ملک کے علماء اور مفتی شیعہ نسل کشی پر چپ ہیں جس سے دہشت گردوں کے حوصلوں کو تقویت ملتی ہے ۔

مولانا جہانگیر عالم قاسمی نے کہاکہ ظلم کہیں بھی ہو اور کسی پر بھی ہو رہا ہو اس کی مذمت ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی قابل مذمت ہے جس پر دنیا کو بیدار ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کا فروغ امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ہو رہا ہے ۔انہوں نے غزہ میں معصوم بچوں اور بے گناہوں کا قتل عام کیا ۔نتن یاہو اور ٹرمپ انسانیت کے مجرم ہیں جنہیں ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا نے کہا کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتیں سرگرم ہیں امن قائم نہیں ہوسکتا۔انہوں نے امریکی صدر کے ذریعہ ایران کی قیادت کو قتل اور اغوا کی دی جارہی دھمکیوں کو بھی ناقابل برداشت قرار دیا اور عالم اسلام نیز دنیا کے تمام امن پسند انسانوں سے استعماری طاقتوں کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ۔

ایرانی قیادت اور مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا: مولانا کلب جواد نقوی

پریس کانفرنس میں مولانا سید کلب جواد نقوی ،مولانا سید صفی حیدر زیدی، مولانا جہاں گیر عالم قاسمی ،مولانا رضا حسین رضوی، مولانا صفدر حسین جون پوری، مولانا کاظم مہدی عروج جونپوری، مولانا عادل فراز نقوی اور اوکھلا دہلی سے احسان احمد نے شرکت کی ۔

مطالبات:

کانفرنس کے اختتام پر مولاناصفی حیدر زیدی نے اتفاق رائے سے مطالبات پیش کئے ۔۱۔ایران کی قیادت کے خلاف ہر قسم کی قتل و اغوا کی دھمکیوں کو فوری طورپر بند کیاجائے ۔۲۔بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا عالمی احتساب کیاجائے ۔۳۔جنگی دھمکیوں کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے ۔۴۔امن کے استحکام کے لئے اقوام متحدہ اور عالمی ادارے فوری مؤثر کردار اداکریں ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha